باتوں باتوں میں ۔۔۔ طارق بٹ ۔۔۔ قسطوں میں موت

عنوان نے یقینا آپ کو چونکا دیا ہو گا کہ ہمارا تو موت بعد از حیات پر کامل یقین ہے الگ بات کہ اعمال ایسے ہیں کہ نو سال کے بچے سے نوے سال کے بوڑھے تک مرنا کوئی بھی نہیں چاہتا ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ جو بہت سارے خداوں کو مانتے ہیں یقین انہیں بھی ہے کہ ایک نہ ایک روز مرنا ہے کہ یہ اٹل حقیقت ہے ۔ تو پھر قسطوں میں موت کی کہانی کیا ہے کہ موت نے جب بھی آنا ہے یکدم آنا ہے ایک ہی بار آنا ہے اور جب آجائے تو پھر ٹلتی نہیں ہے ۔ قصے کہانیاں آپ کی طرح میں نے بھی بہت سن رکھی ہیں کہ فلاں کی آئی ہوئی موت ٹل گئی فلاں تو بالکل موت کے منہ سے واپس آگیا۔ ہم ایسی باتیں سنتے بھی ہیں اور کرتے بھی ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ موت ایک بار اپنے مقررہ وقت پر منہ کھول لے تو پھر کسی ناچیز کی کیا مجال کہ اس کھلے ہوئے منہ میں سے کسی کو واپس لا سکے ۔ زندگی میں جھٹکے ضرور لگتے رہتے ہیں مگر فرشتہ اجل ہمیشہ اپنے مقرر کردہ وقت پر تشریف لاتا ہے اور پھر روح کو لے کر ہی رخصت ہوا کرتا ہے باقی رہا جسم تو اس نے خاک میں خاک ہونا ہے تب تک جب تک دوبارہ اٹھایا نہیں جاتا ۔ اب جب یہ تمام دیکھے بھالے حقائق ہیں تو پھر قسطوں میں موت کے عنوان کی کیا ضرورت پیش آ گئی ۔

قسطوں میں موت بیچنے والوں کی تلاش میں آپ کو کوسوں کی مسافت طے نہیں کرنی پڑے گی یہ آپ کو اپنے پاس پڑوس، گلی محلے یا قریبی بازار میں مل جائیں گے ایک ایسا شو روم کھولے جس میں ایک دو پہیوں والی چمکتی دمکتی ، لشکارے مارتی ، قوس و قزح کے رنگوں میں رنگی موٹر سائیکل آپ کے لاڈلے لخت جگر کے لئے قسطوں پر دستیاب ہو گی ۔ جگر کا ٹکڑا بھی ایسا جس کی عمر ابھی 18 سال سے کم ہے یہ اٹھارہ سال اس لئے ذہن میں آتے ہیں کہ جو شاندار سواری آپ اپنے فرزند ارجمند کو خرید کے دینے لگے ہیں حکومت پاکستان نے اس کو سڑک پر لانے کے لئے کچھ قوانین وضع کر رکھے ہیں جن میں سے اولین یہ ہے کہ اسے وہی چلا سکتا ہے جس کے پاس لائسنس ہو اور لائسنس کے حصول کے لئے شناختی کارڈ کا ہونا بھی ضروری ہے جو 18 سال سے کم عمر میں بن نہیں پاتا ۔ آپ کی مجبوری ہے کہ اپنے دیگر عزیز و اقارب کی دیکھا دیکھی اپنی ناک بچانے کے لئے اپنے صاحبزادے کو ایک نیا موٹر سائیکل دلوا دیں آسانی آپ کے لئے یہ ہو گئی ہے کہ اب قدم قدم پر یہ سواری قسطوں پر دستیاب ہے دو یا تین ہزار روپیہ ماہانہ قسط ادا کرنے کی آپ سکت رکھتے ہیں چنانچہ بغیر کسی لمبی چوڑی سوچ بچار کے آپ موٹر سائیکل خرید کر دینے پر رضامند ہو چکے ہیں مگر چند لمحے کے لئے اگر توقف فرماہیں تو شاید آپ اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور ہو جائیں اور ایک ایسا فیصلہ کر لیں جو آپ اور آپ کے شہزادے کے لئے بہت بہتر ہو۔

لائسنس کی بات پہلے ہو چکی مگر یہ ضروری نہیں جس کے پاس لائسنس ہو اسے موٹر سائیکل چلانا بھی آتا ہو اس لئے پہلے یہ اہتمام فرما لیں کہ آپ کے لخت جگر موٹر سائیکل چلانے کی تربیت حاصل کر سکیں تاکہ سڑک اور ٹریفک کے آداب سے آگاہ ہو جائیں ۔ آپ جانتے ہوں گے کہ آج کل موٹر سائیکل سوار کے لئے ہیلمٹ کی پابندی لازم ہے جو نہ صرف قانون پر پابندی بلکہ اپنی حفاظت کے لئے بھی از حد ضروری ہے مزید حد رفتار کا خیال رکھنا بھی از بس ضروری ہے اس لئے کہ دنیا کی ہر موٹر سائیکل بنانے والی کمپنی نے یہ سواری زمین پر چلنے کے لئے تیار کی ہوتی ہے جب کہ ہماری نوجوان نسل اس کے ذریعے آسمان سے تارے توڑنے کی کوشش میں سرگرداں دکھائی دیتے ہیں وہ بھی دن کے اجالے میں، بھرے پڑے بازاروں میں، ٹریفک کے اژدھام کے اندر اگلے ویل کو اوپر اٹھا کر صرف پچھلے ویل پر کمالات دکھائے جاتے ہیں ۔ یہ سوچے بغیر کہ اگر اس سواری میں ایک ویل پر چلنے کی صلاحیت ہوتی تو اسے بنانے والے کمپنی مالکان کیا پاگل ہیں جو فالتو میں ایک اضافی ویل لگا دیتے ہیں ۔ مان لیا کہ موت کے کنویں میں اس پر کرتب دکھائے جاتے ہیں اور ایک ویل پر بھی چلایا جاتا ہے مگر وہاں اس پر کرتب دکھانے والا سینڈو باقاعدہ تربیت یافتہ ہوتا ہے جب کہ آپ کے سینڈو کو تو درست انداز میں موٹر سائیکل کا اسٹیئرنگ بھی سنبھالنا نہیں آتا اس لئے اس پر نظر رکھنا آپ کی ذمہ داری ہے کہ یہ تحفہ اپنے جگر کے ٹکڑے کو دینے والے بھی تو آپ ہیں ۔

میری طرح آپ کے بھی مشاہدے میں آیا ہو گا کہ کسی دور میں ہمارے گلی محلے اور بازاروں میں جتنے آوارہ کتے گھومتے پھرتے تھے آج اس سے کئی گنا زیادہ آوارہ موٹر سائیکل گھوں گھوں کرتے گزرتے پائے جاتے ہیں کبھی وقت ملے تو مشاہدہ فرماہیں گلی گلی رواں ان موٹر سائیکلوں پر نوے سے پچانوے فیصد آپ کو ایسے سوار ملیں گے جن کی عمریں 18 سال سے کم ہیں اور یہی کم عمر نوجوان اور بچے نا تجربہ کاری اور تیز رفتاری کے باعث حادثات کا شکار ہوتے ہیں اسپتالوں میں جانے کا اتفاق ہو تو آپ کو معلوم پڑے گا کہ 80 فیصد سے زائد حادثات کے باعث اپنے بازو ، ٹانگ یا جسم کے کسی اور حصے سے محروم ہونے والے میرے وطن کے یہی نونہال ہوتے ہیں ان میں سے کچھ تو اللہ کے فضل سے صحت یاب ہو جاتے ہیں مگر کچھ کو ساری زندگی کے لئے معذوری کا سامنا کرنا پڑتا ہے کچھ جان سے بھی جاتے ہیں ۔ ہمارے حکمران اگر اس حوالے سے کوئی قانون سازی فرما دیں کہ موٹر سائیکل کی حد رفتار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم رہے اور والدین بھی اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے احتیاط کریں تو 18 سال سے کم عمر اپنے مستقبل کو بہ آسانی قسطوں میں ملنے والی موت سے بچا سکتے ہیں ۔۔۔!

کیٹاگری میں : Column

اپنا تبصرہ بھیجیں