
[ad_1]
دیویندر یادو نے کہا کہ کانگریس پارٹی دہلی کے لوگوں کو آلودگی کے اس مسئلہ سے راحت دلانے کے لئے پوری طرح پابند ہے اور بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے درمیان کے اس ملی بھگت کو بے نقاب کرتی رہے گی۔

دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو
نئی دہلی: منگل (1 اپریل) کو دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے کہا کہ دہلی میں آلودگی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے جو بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کی ناکامی پر سنگین سوال اٹھا رہے ہیں۔ اس کے باوجود دونوں پارٹیاں اس مسئلے پر ذمہ داری لینے سے بچنا چاہ رہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے عآپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اسمبلی میں چرچہ سے غائب رہتی ہیں۔ اسی طرح عآپ کے کنویز اروند کیجریوال مسلسل دہلی سے غائب رہتے ہیں۔ ان کی پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں بھی فضائی آلودگی جیسے اہم موضوع کو پوری طرح سے نظر انداز کر دیا تھا جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ عام آدمی پارٹی اس مسئلہ کے تئیں پوری طرح سے بے حس ہے۔
دیویندر یادو نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے فضائی آلودگی کے حوالے سے صرف ایک جزوی اور نامکمل رپورٹ پیش کی ہے، جب کہ کیگ کو اس پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنی چاہیے۔ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ آلودگی کنٹرول کرنے کے لیے مختص کی گئی رقم کہاں گئی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آج اسمبلی میں پیش کی گئی پچھلی کیگ رپورٹ میں ’31 مارچ 2021‘ تک کے معاملات دکھائے گئے ہیں، جسے کیجریوال حکومت نے روکنے کی کوشش کی۔ اب نیشنل کلین ایئر پروگرام (این سی اے پی) کے حوالے سے بھی کیگ رپورٹ جاری ہونی چاہیے، تاکہ آلودگی کنٹرول کرنے کے نام پر ہونے والے تمام گھوٹالوں کا پردہ فاش ہو سکے۔
دیویندر یادو نے کہا کہ کیجریوال نے وعدہ کیا تھا کہ دہلی کی آلودگی ایک تہائی تک کم کر دیں گے اور 2 کروڑ سے زیادہ درخت لگائے جائیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ شیلا دیکشت حکومت (2013-1998) کے دور میں دہلی کا جنگلاتی رقبہ 1.7 فیصد سے بڑھ کر 20.08 فیصد ہوا، جب کہ کیجریوال حکومت (2024-2013) کے دور میں یہ اضافہ صرف 5 فیصد رہا اور حالیہ 2 سروے کے مطابق دہلی کے جنگلاتی رقبے میں کمی آ رہی ہے۔ دہلی میں جنگلاتی رقبے میں کمی کے لیے بی جے پی بھی ذمہ دار ہے، کیونکہ ڈی ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن جیسے ادارے بی جے پی کے کنٹرول میں تھے۔
دیویندر یادو نے کہا کہ مرکزی حکومت کے نیشنل کلین ایئر پروگرام کے تحت 20-2019 سے 24-2023 کے دوران 24 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 131 شہروں کو ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے 9631 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔ لیکن دہلی میں آلودگی کم ہونے کے بجائے بڑھ رہا ہے۔ 20-2019 میں پی ایم10 کی سطح 192 تھی جو 24-2023 میں بڑھ کر 208 ہو گئی یعنی کہ 8 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب ہزاروں کروڑ روپے خرچ کیے گئے تو پھر آلودگی کم کیوں نہیں ہوا؟ مطلب یہ کہ آلودگی کے نام پر عوام کی محنت کی کمائی بدعنوانی کی نذر ہو گئی۔
دیویندر یادو نے کہا کہ ’اسموگ ٹاور‘ کے نام پر دہلی کو گمراہ کیا گیا۔ آنند وہار اور کناٹ پلیس میں لگائے گئے ٹاوروں سے کوئی فائدہ نہیں ہوا، بی جے پی این سی آر میں آلودگی کو کنٹرول کرنے میں پوری طرح ناکام رہی۔ دہلی کے چاروں جانب موجود تھرمل پاور پلانٹ سے نکنلے والی آلودگی کو کنٹرول کرنے میں بی جے پی ناکام رہی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جان بوجھ کر میٹرو پروجیکٹس کو سالوں تک الجھا کر رکھا گیا۔ بی جے پی کے دور حکومت میں پورے ملک میں فضائی آلودگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔
دیویندر یادو نے کہا کہ بی جے پی کیجریوال حکومت پر بدعنوانی کا الزام تو لگاتی ہے لیکن کوئی مناسب کارروائی نہیں کرتی ہے۔ حال ہی میں آئی کیگ رپورٹ میں عام آدمی پارٹی کی بدعنوانی واضح طور پر سب کے سامنے آ گئی، لیکن بی جے پی نے اس پر کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی ایک دوسرے کی بدعنوانی کو چھپانے میں لگے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آلودگی پر کیگ رپورٹ پیش کرنے کی جگہ بی جے پی-کیجریوال کی مشترکہ ناکامی پر مبنی رپورٹ پیش ہونی چاہیے۔ علاوہ ازیں دیویندر یادو نے کہا کہ کانگریس پارٹی دہلی کے لوگوں کو آلودگی کے اس مسئلہ سے راحت دلانے کے لئے پوری طرح پابند ہے اور بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے درمیان کے اس ملی بھگت کو بے نقاب کرتی رہے گی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
[ad_2]
Source link