
[ad_1]
کانگریس رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے وقف بل پر لوک سبھا میں ہونے والی بحث سے متعلق کہا کہ انڈیا اتحاد کا جو اسٹینڈ جے پی سی میں تھا، وہی لوک سبھا میں بھی رہے گا۔

وقف ترمیمی بل کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل جے پی سی میں شامل اراکین، تصویر ’ایکس‘
مرکزی حکومت نے 2 اپریل کو لوک سبھا میں ’وقف ترمیمی بل 2024‘ پاس کرانے کے لیے پوری تیاری کر لی ہے۔ لیکن زوردار بحث کے لیے کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیاں بھی تیار ہیں۔ لوک سبھا میں تعداد کی بات کریں تو این ڈی اے حکومت کو کسی طرح کی دقت پیش نہیں آنے والی، لیکن برسراقتدار اتحاد میں شامل کچھ سیکولر پارٹیاں ایسی ہیں جن کے لیڈران نے وقف بل کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کل دوپہر جب یہ بل لوک سبھا میں پیش ہوگا، اور بحث ہوگی تو این ڈی اے میں شامل سیکولر پارٹیوں پر سبھی کی نظریں ہوں گی۔
دراصل نتیش کمار کی جنتا دل یو، چندرابابو نائیڈو کی ٹی ڈی پی (تیلگو دیشم پارٹی)، چراغ پاسوان کی ایل جے پی (لوک جن شکتی پارٹی- رام ولاس) اور جنتا دل سیکولر جیسی پارٹیاں بی جے پی کو سر درد دے سکتی ہیں۔ ان پارٹیوں کو اگر اپنے ساتھ رکھنے میں بی جے پی کامیاب ہو گئی تو لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل کو پاس کرانا حکومت کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں بھی مذکورہ بالا سیکولر پارٹیوں پر دباؤ بنانے کی حکمت عملی اختیار کر رہی ہیں، تاکہ ووٹنگ کے وقت وہ بل کی حمایت نہ کریں۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے تو وقف بل پر لوک سبھا میں ہونے والی بحث سے متعلق واضح بیان دیا ہے کہ انڈیا اتحاد کا جو اسٹینڈ جے پی سی (جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی) میں تھا، وہی لوک سبھا میں بھی رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’’سوال ہمارے اتحاد کا نہیں ہے، بلکہ این ڈی اے کا ہے۔ نتیش کمار اور چندرابابو نائیڈو کدھر ہیں، ان کو یہ واضح کرنا چاہیے۔‘‘
اس درمیان وقف ترمیمی بل کی مخالفت کر رہے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بی جے پی کے ساتھیوں اور اراکین پارلیمنٹ سمیت سبھی سیکولر سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بل کی سخت مخالفت کریں اور اس کی حمایت میں ووٹ نہ دیں۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے چیف مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے آج ملک کی سبھی سیکولر پارٹیوں سے اپیل کی کہ وہ بدھ کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے والے وقف ترمیمی بل کی نہ صرف سخت مخالفت کریں، بلکہ بی جے پی کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کو ناکام کرنے کے لیے اس کے خلاف اپنے ووٹ کا استعمال بھی کریں۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ بل نہ صرف تفریق آمیز ہے، بلکہ ناانصافی پر مبنی ہے۔ مولانا رحمانی نے اس بل کو آئین کے بنیادی حقوق سے متعلق آرٹیکل 14، 25 اور 26 پر براہ راست حملہ بھی قرار دیا۔
’وقف ترمیمی بل 2024‘ کو لوک سبھا میں بحث کے لیے پیش کیے جانے سے ایک روز قبل سیاسی سرگرمیاں بہت تیز ہو گئی ہیں۔ سیاسی لیڈران کے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاص طور سے جنتا دل یو لیڈران کے بیان نے سیاسی ہلچل میں اضافہ کر دیا ہے۔ آئیے ذیل میں کچھ اہم سیاسی لیڈران کے بیانات پر نظر ڈالتے ہیں۔
غلام غوث (جنتا دل یو رکن اسمبلی)
یہ (وقف ترمیمی) بل غیر ضروری ہے اور مرکزی حکومت کی منشا صاف نہیں ہے۔ یہ بل واپس لیا جانا چاہیے۔ پارٹی کے لیڈران کو لے کر ہم نتیش کمار سے ملنے جائیں گے اور دباؤ بنائیں گے کہ اس بل کی مخالفت کی جائے۔ پارٹی کے ایک لیڈر نے بغیر نتیش کمار کی رائے لیے اس بل کی پارلیمنٹ میں حمایت کر دی ہے۔ جنتا دل یو اس بل کی حمایت نہیں کرتی ہے۔
منن مشرا (بی جے پی رکن پارلیمنٹ)
اس (وقف ترمیمی) بل سے مسلمانوں کی زمین کوئی چھیننے نہیں جا رہا۔ یہ گمراہی پھیلائی جا رہی ہے، جو بے بنیاد ہے۔ اس بل سے پسماندہ مسلمانوں کو تو فائدہ ہونے جا رہا ہے۔ اس سے لوگوں کو فطری انصاف ملے گا۔ وقف پر این ڈی اے کی سبھی اتحادی پارٹیاں ساتھ ہیں۔ یہاں تک کہ مجھے لگتا ہے کہ کچھ این ڈی اے سے باہر کے اراکین پارلیمنٹ بھی ساتھ دیں گے۔ جو پڑھا لکھا، سمجھدار رکن پارلیمنٹ ہے، وہ سبھی اس پر حکومت کے ساتھ ہیں۔
اسدالدین اویسی (مجلس اتحادالمسلمین رکن پارلیمنٹ)
وقف ترمیمی بل غیر آئینی ہے۔ اس بل کا اگر بی جے پی کے ساتھ جنتا دل یو، ٹی ڈی پی، جینت چودھری اور چراغ پاسوان حمایت کرتے ہیں تو ان سے عوام سوال کرے گی۔ بہار میں تو (اسمبلی) انتخاب بھی ہے۔ نتیش کمار اور جنتا دل یو والے ووٹ مانگنے کس منھ سے جائیں گے۔ یہ مسلمانوں کو ان کی پراپرٹی سے بے دخل کرنے کی سازش ہے۔ ہم سب اس کی پرزور مخالفت کریں گے۔
اکھلیش یادو (سماجوادی پارٹی رکن پارلیمنٹ)
ہم وقف بورڈ بل کے خلاف ہیں، کیونکہ بی جے پی ہر چیز میں مداخلت کرنا چاہتی ہے۔ وہ ہر جگہ کنٹرول چاہتے ہیں۔
تیجسوی یادو (آر جے ڈی رکن اسمبلی)
ہم شرو سے ہی اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں۔ جے پی سی میں بھی مخالفت کی۔ لالو جی بیمار حالت میں بھی پہنچ کر اپنی مخالفت ظاہر کی۔ ہم گنگا جمنی تہذیب کو ماننے والے لوگ ہیں۔ یہ لوگ آر ایس ایس کا ایجنڈا ماننے والے لوگ ہیں۔ مرکزی وزیر للن سنگھ تو اب بی جے پی میں ہیں۔ چراغ اور مانجھی کا کوئی نظریہ نہیں ہے۔
لوک سبھا اور راجیہ سبھا کا کیا ہے نمبر گیم؟
لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل پاس کرانے کے لیے مرکزی حکومت کو 272 کا ضروری نمبر حاصل کرنا ہوگا۔ 542 رکنی لوک سبھا میں بی جے پی کے 240 اراکین پارلیمنٹ ہیں۔ بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کی بات کریں تو اراکین پارلیمنٹ کی مجموعی تعداد 293 ہو جاتی ہے۔ اس میں جنتا دل یو، ٹی ڈی پی اور اپنا دل سمیت کئی سیکولر پارٹیاں شامل ہیں۔ اپوزیشن کی بات کریں تو کانگریس کے پاس 99 لوک سبھا اراکین ہیں۔ انڈیا بلاک میں شامل سبھی پارٹیوں کو ملا کر ان کی مجموعی تعداد 233 تک پہنچتی ہے۔
راجیہ سبھا کی بات کریں تو 236 رکنی ایوان بالا میں بی جے پی کے 98 اراکین پارلیمنٹ ہیں، اور این ڈی اے کے پاس مجموعی طور پر اراکین پارلیمنٹ کی تعداد 115 ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ 6 نامزد اراکین بھی ہیں جو عام طور پر حکومت کے حق میں ہی ووٹنگ کرتے ہیں۔ انھیں جوڑنے کے بعد این ڈی اے کی تعداد 121 تک پہنچ جاتی ہے۔ راجیہ سبھا میں کسی بھی بل کو پاس کرانے کے لیے 119 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی این ڈی اے کی سبھی پارٹیوں کی مکمل حمایت ملنے کی صورت میں ’وقف ترمیمی بل 2024‘ راجیہ سبھا سے بھی پاس ہو سکتا ہے۔ ایوان بالا میں کانگریس کے 27 اراکین پارلیمنٹ ہیں اور انڈیا اتحاد کی دیگر پارٹیوں کو جوڑا جائے تو اراکین پارلیمنٹ کی مجموعی تعداد 58 ہو جاتی ہے۔ اس وقت راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے پاس مجموعی طور پر 85 اراکین پارلیمنٹ ہیں۔ اس کے علاوہ وائی ایس آر کانگریس کے 9، بی جے ڈی کے 7 اور اے آئی اے ڈی ایم کے سے 4 اراکین پارلیمنٹ راجیہ سبھا میں ہیں۔ کچھ چھوٹی پارٹیوں اور آزاد اراکین کو ملا کر 3 دیگر اراکین راجیہ سبھا بھی ہیں۔ لوک سبھا میں نمبر گیم کیا رہتا ہے، یہ تو کل پتہ چل جائے گا، لیکن راجیہ سبھا میں برسراقتدار طبقہ کو بل پاس کرانے میں کامیابی ملتی ہے یا نہیں، اس کے لیے کچھ دنوں مزید انتظار کرنا ہوگا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
[ad_2]
Source link