کوری بوکر پیر 13 مارچ سے لے کر منگل یکم اپریل کی دیر رات تک سینیٹ میں 25 گھنٹے مسلسل تقریر کرتے رہے۔ انہوں نے اپنی تقریر کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر شدید حملہ کیا۔
امریکی سینیٹ میں طویل ترین تاریخی تقریر کرتے ہوئے ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر کوری بوکر
امریکی سینیٹ میں طویل ترین تاریخی تقریر کرتے ہوئےڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر کوری بوکر
امریکہ کے نیو جرسی سے ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر کوری بوکر نے سینیٹ میں طویل ترین تقریر کر کے تاریخ رقم کر دی ہے۔ کوری بوکر پیر 31 مارچ سے لے کر منگل یکم اپریل کی دیر رات تک سینیٹ میں 25 گھنٹے مسلسل تقریر کرتے رہے۔ انہوں نے اپنی تقریر کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر شدید حملہ کیا۔
سینیٹ میں طویل تقریر کے ساتھ ہی کوری بوکر نے 68 سالہ پرانا ریکارڈ بھی توڑ دیا، جو سابق سینیٹر اسٹورم تھرمونڈ کے نام تھا۔ تھرمونڈ جنوبی کیرولینا سے سینیٹر تھے اور انہوں نے سال 1957 میں سول رائٹ قانون کے معاملے پر 24 گھنٹے تقریر کی تھی۔ کوری بوکر نے یہ طویل تقریر ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں کو یہ باور کرانے کے لیے کیا کہ وہ لوگ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو انہیں کرنا چاہیے۔ کوری بوکر نے اپنی تقریر میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سماجی تحفظ کے دفاتر سے ملازمین کی برطرفی پر تشویش کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں پر بھی سوال اٹھائے۔ بوکر نے گرین لینڈ اور کینیڈا کو امریکہ کا حصہ بنانے کی ٹرمپ انتظامیہ کے منصوبے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس سے آئینی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
55 سالہ کوری بوکر کی پیدائش واشنگٹن میں ہوئی تھی، جب وہ بچے تھے تبھی ان کی فیملی نیو جرسی منتقل ہو گئی تھی۔ کوری بوکر کا تعلق سیاہ فام برادری سے ہے۔ جس کی وجہ سے انہیں بچپن میں امتیازی سلوک کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور کالج میں وہ فٹ بال کے ایک اچھے کھلاڑی بھی تھے۔ اس کے بعد کوری بوکر نے ’ییل لا اسکول‘ سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور ایک غیر منافع بخش تنظیم میں بطور وکیل خدمات انجام دیں، جس میں وہ غریب لوگوں کو قانونی امداد فراہم کرتے تھے۔
کوری بوکر نے نیوارک سٹی کونسل میں بھی خدمات انجام دیں اور پھر نیو جرسی کے سب سے بڑے شہر نیوارک کے میئر بھی بنے۔ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے نیوارک کے اسکولوں کے لیے 10 کروڑ ڈالر کا عطیہ دیا، اس وقت کوری بوکر ہی نیوارک کے میئر تھے۔ ایسے میں ان کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ سال 2013 میں اس وقت کے سینیٹر فرینک لوٹنبرگ کے انتقال کے بعد کوری بوکر امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے 2014 اور پھر 2020 کے سینیٹ انتخاب میں جیت درج کی۔ 2020 میں کوری بوکر امریکی صدارتی عہدہ کے لیے بھی ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے دعویداری بھی پیش کی تھی۔ حالانکہ انہیں کامیابی نہیں مل پائی تھی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔