
[ad_1]
تھل ہسپتال میں سرجری کے لئے ایچ آئی وی پروٹوکول لاگو کر دیا گیا۔
تونسہ شریف میں پچاس سے زائد بچوں میں ایچ آئی وی وائرس کے مثبت پائے جانے کی رپورٹس نے ملحقہ ضلع لیہ میں بھی خطرے کی گھنٹی بجادی ہے، ڈاکٹر کی جانب سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا گیا ہے کہ لیہ میں بھی ہر ماہ ایک کیس مشتبہ ضرور پایا جاتا ہے جو کہ انتہائی الارمنگ ہے
موجودہ اعداد و شمار پر تھل ہسپتال میں گائنی و مین سرجری کیلئے دیگر ٹیسٹوں کے ساتھ ساتھ ایچ آئی وی پروٹوکول بھی لاگو کر دیا گیا ہے جو کہ ہسپتال انتظامیہ کا مثبت اقدام ہے، ملحقہ ضلع تونسہ کے 30فیصد کے لگ بھگ آبادی لیہ شہر اور مختلف دیہاتوں میں قیام پذیر ہے جبکہ دیہی علاقوں میں اتائی ڈاکٹرز کی بھر مار اور حجام کی جانب سے ایک ہی اُسترے کے مسلسل استعمال سے بھی ایڈز کے پھیلنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں
لیہ کے ڈاکٹرز نے گفتگو کرتے ہوئے ایچ آئی وی کے لیہ میں کیسز ہونے کی نہ صرف تصدیق کی بلکہ اس کی ممکنہ وجوہات پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے اس کے تدارک کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے پر زور دیا، ان کا کہنا تھا کہ اتائیت کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا جانا ضروری ہے جبکہ حجام کو بھی اس ضمن میں آگاہی دینا ضروری ہے، لوگوں میں شعور کی بیداری کیلئے اقدامات اٹھانا ہونگے۔ شہریوں کی جانب سے بھی یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام ہسپتالوں میں ہر سمی سرجری کیلئے ایچ آئی وی پروٹوکول کو لازم قرار دیا جائے، تونسہ شریف میں چند روز قبل سامنے آنیوالے ایچ آئی وی کے کیسز کے حوالے سے محکمہ صحت نے ہنگامی اقدامات اٹھائے ہیں
سیکرٹری ہیلتھ اینڈ پاپولیشن نادیہ ثاقب نے تونسہ کے مختلف مراکز صحت کا دورہ کیا، فرائض میں غفلت پر ڈی ایچ او پی ایس، ڈی ڈی ایچ او تونسہ اور ایم ایس ٹی ایچ کیو تونسہ ہسپتال کو معطل کرنے کے احکامات جاری کیے، انہوں نے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت تونسہ شریف میں اسکرینگ اور ٹریٹمنٹ سنٹر کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ ڈی جی خان میں گھر گھر بڑے پیمانے پر اسکریننگ کے تونسہ عمل کو شروع کر نیکی ہدایت کی، اتائیت کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کیے ہیں جس پر ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں
[ad_2]
Source link