ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں علامہ اقبال
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں تہی زندگی سے نہی…
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں تہی زندگی سے نہی…
زحال مسکیں مکن تغافل دورائے نیناں بنائے بتیاں کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہ…
فقیرانہ آئے صدا کر چلے کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے …
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا کیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا ب…
ایشیائی خلیج میں تناؤ بڑھ گیا ہے، ایران نے خلیج میں امریکی بحری جہازوں کو نشانہ…
گزرے جو اپنے یاروں کی صحبت میں چار دن ایسا لگا بسر ہوئے جنت میں چار دن عمر خضر…
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہر…