
[ad_1]
میانمار میں آئے زلزلہ نے ملک کے بڑے حصہ کو متاثر کیا ہے۔ کئی علاقوں میں بجلی، ٹیلی فون یا موبائل فون کنکشن ٹھپ ہو گیا اور سڑکیں ٹوٹ پھوٹ گئی ہیں۔ اس وجہ سے نقصانات کا صحیح اندازہ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

میانمار میں زلزلہ کے بعد منہدم ایک عمارت، تصویر سوشل میڈیا
میانمار میں گزشتہ ہفتہ آئے 7.7 شدت کے طاقتور زلزلہ نے کئی عمارتوں کو منہدم کر دیا۔ آج ایک عمارت کے ملبہ سے 63 سالہ خاتون کو بہ حفاظت باہر نکال لیا گیا۔ اس خاتون کے زندہ ہونے کی خبر ملنے کے بعد لگاتار بہ حفاظت باہر نکالنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں، جس میں کامیابی مل گئی ہے۔ زلزلہ کے 4 دنوں بعد اس کا زندہ ملبے سے باہر نکلنا لوگوں کو حیران کر رہا ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ اب ملبوں سے صرف لاشیں ہی باہر نکل رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میانمار میں آئے تباہناک زلزلہ میں ہلاکتوں کی تعداد 2700 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ اس زلزلہ میں ہزاروں لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں کچھ کی حالت اب بھی سنگین بنی ہوئی ہے۔ ملبہ میں دبے لوگوں کے زندہ بچنے کی امیدیں اب ہر گزرتے وقت کے ساتھ ختم ہوتی جا رہی ہیں۔
بہرحال، 91 گھنٹے بعد ملبہ سے باہر نکالی گئی 63 سالہ خاتون کی خبر سے متعلق تصدیق فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ نے بھی کر دی ہے۔ نئے پئی تا میں فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ جمعہ کی دوپہر آئے خوفناک زلزلہ سے ایک عمارت منہدم ہونے کے 91 گھنٹے بعد خاتون کو ملبہ سے بہ حفاظت باہر نکال لیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آفت کے 72 گھنٹوں کے بعد زندہ بچے لوگوں کے ملنے کا امکان کم ہوتا جا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ 63 سالہ خاتون کی زندگی حیران کرنے والی ہے۔ ریسکیو مہم میں شامل لوگوں کا کہنا ہے کہ اب کسی کے زندہ ہونے کی امید کم ہی ہے، اور ہلاکتوں کی تعداد آنے والے دنوں میں زیادہ ہو سکتی ہے۔
اس درمیان ’ویسٹرن نیوز‘ ویب سائٹ پر جاری خبر کے مطابق میانمار کی فوجی حکومت کے سربراہ اور سینئر جنرل من آنگ ہوائنگ نے راجدھانی نئے پئی تا میں بتایا کہ زلزلہ کے سبب اب تک 2719 لوگوں کی موت ہو گئی ہے، جبکہ 4521 اشخاص زخمی ہیں اور 441 لاپتہ ہیں۔ میانمار میں آئے زلزلہ نے ملک کے بڑے حصہ کو متاثر کیا ہے۔ کئی علاقوں میں بجلی، ٹیلی فون یا موبائل فون کنکشن ٹھپ ہو گیا اور سڑکیں ٹوٹ پھوٹ گئی ہیں۔ اس وجہ سے نقصانات کا صحیح اندازہ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ میانمار کے لیے یونیسیف کی نائب نمائندہ جولیا ریس نے کہا کہ ’’ضرورتیں بہت بڑی ہیں اور ہر گھنٹے یہ بڑھتی جا رہی ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’زلزلہ سے متاثر ہوئے علاقوں میں لوگوں کو صاف پانی، کھانا اور طبی اشیا کی فراہمی کی بہت کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
[ad_2]
Source link