
[ad_1]
سپریم کورٹ لیگل سروسز کمیٹی کے سربراہ جسٹس سوریہ کانت نے یکم اپریل کو سبھی ریاستوں کی لیگل سروسز اتھارٹی اور ہائی کورٹ کی لیگل سروسز کمیٹی کے صدور سے بات کی اور انھیں ضروری ہدایات دیں۔

سپریم کورٹ کے جسٹس سوریہ کانت کی صدارت والی لیگل سروسز کمیٹی نے ایک اہم پیش رفت سے متعلق فیصلہ لیا ہے۔ کمیٹی ملک بھر کے ان سبھی قیدیوں کی قانونی امداد کرے گی، جو جیل سے باہر آنے کے اہل ہونے کے باوجود ابھی تک قید و بند کی صعوبت برداشت کر رہے ہیں۔ یعنی ہزاروں قیدیوں کی قسمت کھلنے والی ہے۔ 3 مہینے کی طویل جدوجہد کے بعد ایسے قیدیوں کی تعداد تقریباً 4200 پائی گئی ہے۔
سپریم کورٹ لیگل سروسز کمیٹی کے سربراہ جسٹس سوریہ کانت نے یکم اپریل (منگل) کو سبھی ریاستوں کی لیگل سروسز اتھارٹی اور ہائی کورٹ کی لیگل سروسز کمیٹی کے صدور سے بات کی۔ انھوں نے ہدایت دی کہ اس طرح کے قیدیوں کی فائل سپریم کورٹ لیگل سروسز کمیٹی کو بھیجی جائے تاکہ انھیں قانونی مدد فراہم کرواتے ہوئے ان کی طرف سے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی جا سکے۔ سبھی ریاستوں کے جیل ڈائریکٹر جنرل اور ہائی کورٹ لیگل سروسز کمیٹی کی کوششوں سے 3 زمرہ کے قیدیوں کی شناخت کی گئی ہے، جنھیں جیل سے آزادی مل سکتی ہے۔ وہ زمرے اس طرح ہیں:
-
جن کی اپیل ہائی کورٹ سے خارج ہو چکی ہے۔
-
جو اپنے جرم کے لیے قانون میں طے زیادہ سے زیادہ سزا میں نصف سے زیادہ حصہ جیل میں گزار چکے ہیں اور جنھیں ہائی کورٹ نے ضمانت نہیں دی ہے۔
-
جن کی سزا ختم کرنے کی درخواست ریاستی حکومت ٹھکرا چکی ہے اور ہائی کورٹ نے بھی عرضی خارج کر دی ہے۔
سپریم کورٹ لیگل سروسز کمیٹی کا ماننا ہے کہ ان سبھی قیدیوں کو قانونی امداد کی ضرورت ہے۔ یہ قیدی غالباً سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر پانے میں اہل نہیں ہیں۔ ایسے میں کمیٹی نے ان کی کیس فائل اور ان کے بارے میں جاری احکامات کی مصدقہ کاپی طلب کی ہے۔ کمیٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ صرف ایک بار کا عمل نہیں ہے۔ ریاستوں کی لیگل سروسز اتھارٹی اور ہائی کورٹ کی کمیٹی ایسے قیدیوں کی لگاتار شناخت کرتی رہے، جنھیں قانونی مدد کی ضرورت ہے۔ جسٹس سوریہ کانت نے اس بات پر زور دیا کہ جیل میں بند قیدیوں کو ان کے قانونی حقوق اور انھیں حاصل کرنے کے لیے دستیاب متبادل کی جانکاری دی جاتی رہنی چاہیے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
[ad_2]
Source link