
[ad_1]
ISTANBUL:
ترکیے کی اپوزیشن نے اکرم امام اوغلو کی گرفتاری کے بعد استنبول کی حکمران جماعت ری پبلکن پیپلزپارٹی (سی ایچ پی) نے نوری اسلن کو شہر کا قائم مقام میئرمنتخب کرلیا۔
استنبول کی میونسپل کونسل میں 314 اراکین ہیں، جس میں سی ایچ پی کو واضح اکثریت حاصل ہے اور اسی اکثریت کی بنیاد پر نوری اسلن کو قائم مقام میئر منتخب کرلیا اور انہیں 177 ووٹ پڑے۔
قائم مقام میئر مستقل میئر امام اوغلو کی بقیہ مدت مکمل کریں گے کیونکہ انہیں ٹرائل کا سامنا ہے جو ابھی شروع نہیں ہوا ہے تاہم انہیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔
اپوزیشن کی جانب سے قائم مقام میئر کے انتخاب کے نتیجے میں ترک حکومت ٹرسٹی کے ذریعے میونسلپٹی چلانے سے معذور ہوگئی ہے جبکہ حکومت نے دیگر کئی شہروں میں ایسا ہی کیا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ترک صدر کے مخالف رہنما اور استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو کو کرپشن کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں حکومت مخالف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
حکومت نے شدید احتجاج کو کچلنے کے لیے اپوزیشن کے سیکڑوں کارکنوں اور شہریوں کو گرفتار کرلیا ہے لیکن احتجاج میں کمی نہیں آ رہی ہے۔
دوسری جانب حکومت اس تاثر کی تردید کر رہی ہے کہ وہ عدالت پر دباؤ ڈال رہی ہے، ترک سیاست میں دہائیوں سے حکمرانی کرنے والے رجب طیب اردوان نے ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کو ایک شو قرار دے کر مسترد کردیا اور قانونی کارروائی سے خبردار کریا۔
ترک صدر نے مخالف جماعت سی ایچ پی سے کہا کہ وہ ترک شہریوں کو اشتعال دلانے سے گریز کرے۔
[ad_2]
Source link