[ad_1]
ٹرک سے سلنڈر اتارنے کا کام چل رہا تھا کہ اچانک ایک سلنڈر پھٹ گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے پورے گودام کو اپنی چپیٹ میں لے لیا اور وہاں رکھے بقیہ سلنڈر بھی ایک ایک کر کے پھٹنے لگے۔
بریلی کے رجو پرسپور میں پیر (24 مارچ) کو ایک بڑا حادثہ ہو گیا۔ یہاں کی ایک گیس ایجنسی میں اچانک آگ لگ گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ آگ سلنڈر پھٹنے کی وجہ سے لگی، جس کے سبب پورے علاقے میں افراتفری اور دہشت پھیل گئی۔ دھماکوں کی آواز اتنی تیز تھی کہ آس پاس کے لوگ گھبرا گئے اور گھروں سے باہر نکل آئے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق پیر کو ایک ٹرک سلنڈر لے کر گیس ایجنسی کے گودام میں آیا تھا۔ ٹرک سے سلنڈر اتارنے کا کام چل رہا تھا کہ اچانک ایک سلنڈر پھٹ گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے پورے گودام کو اپنی چپیٹ میں لے لیا اور وہاں رکھے بقیہ سلنڈر بھی ایک ایک کر کے پھٹنے لگے۔ مسلسل دھھماکوں سے پورا علاقہ لرز اٹھا۔ سلنڈر کے ٹکڑے 500 میٹر دور تک جا کر گرے۔
جائے وقوع پر موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ گیس سلنڈر کے ٹکڑے 500 میٹر دور تک جا کر گرے۔ دھماکوں کی آواز کئی کلومیٹر تک سنی گئی۔ واقعے کے بعد علاقے میں افراتفری مچ گئی، لوگ اپنی جان بچانے کے لیے ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیم موقع پر پہنچی۔ فائر بریگیڈ کے عملے نے فوری طور پر آگ بجھانا شروع کر دیا، لیکن آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس پر قابو پانا مشکل ہو رہا تھا۔ فائر بریگیڈ کی کئی گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف رہیں۔
واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ضلع انتظامیہ بھی الرٹ ہو گئی۔ اعلیٰ افسران فوراً جائے وقوع پر پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ پولیس نے آس پاس کے علاقوں کو خالی کرانا شروع کر دیا، تاکہ کوئی بڑا حادثہ پیش نہ آئے۔ اس حادثے کے بعد سے پورے علاقے میں دہشت کا ماحول ہے۔ لوگ کافی ڈرے ہوئے ہیں۔ کئی گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے دھماکوں کی وجہ سے ہِل گئیں۔ کچھ جگہوں پر تو مکانوں میں دراڑیں بھی آ گئی ہیں۔
حالانکہ ان سب میں راحت کی بات یہ ہے کہ اس حادثے میں کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے بھی کسی جانی نقصان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے، لیکن نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ موقع پر راحت اور بچاؤ کا کام مسلسل جاری ہے۔ انتظامیہ کی ٹیمیں بھی موقع پر ہیں اور حالات پر قابو پانے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
[ad_2]
Source link