
[ad_1]
ٹرمپ کی یہ حکمت عملی امریکہ کے سفارتی اور اقتصادی اثر و رسوخ کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ایشیا اور افریقہ کے کئی ممالک تاریخی طور پر امریکہ اور چین دونوں سے تعلقات رکھتے ہیں۔ ویزا پابندیاں نہ صرف ان کے سفارتی تعلقات کو متاثر کریں گی بلکہ امریکی کمپنیوں کے لیے ان بازاروں میں مسابقت بھی مشکل بنا دیں گی، جہاں چین پہلے ہی حاوی ہے۔
اس کے علاوہ، یہ ویزا پابندیاں امریکہ کی عالمی برتری کو کمزور کر سکتی ہیں۔ ٹرمپ کے پہلے دور میں ان کی سفری پابندیوں کو انسانی حقوق کے گروپوں اور عالمی اتحادیوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب چین کے اقتصادی شراکت داروں کو نشانہ بنانے والی یہ پالیسی بڑے پیمانے پر ردعمل کو جنم دے سکتی ہے۔
ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی اب قومی سلامتی کے بجائے اقتصادی اور سیاسی مفادات کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ تاہم یہ حکمت عملی چین کو محدود کرنے کے بجائے اس کے اثر و رسوخ میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
[ad_2]
Source link