وہم یا یقین تحریر محمد اظہر حفیظ

اج حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا اور اس کے بعد بہت سے حکیم دیکھے اور سوچا بڑا، حکیم بنا پھرتا ھے وھم کا تو علاج نہیں کر سکتا، چھوٹے ھوتے جب بخار تیز ھوتا تو مختلف چیزیں دیوار پر نظر آنا شروع ھو جاتی امی جی او کی اے اظہر کجھ وی نہیں نہیں امی جی کجھ ھے وے بیٹے تیرا وھم اے، بچپن میں خالہ حفیظاں کے گاؤں تیرتھ والا گیا بھائی پرویز اور بھا ئی ریاض کے ساتھ بھائی ریاض یار اظہر جے ادھر کمرے والے پاسے رات نوں کوئی سفید کپڑوں والا بابا، یا، مائی نظر آئے تے ڈرنا نہیں کہندے کجھ نہیں بس اوتھے ھی رھندے نے ساری رات ڈر سے جاگتا رھا سویا نہیں کبھی کسی طرف دیکھوں کبھی کسی طرف یار وہم نہ کر روز نہیں آتے جی بھائی جان، اگلے دن خرگوش کے شکار کے لیے خالہ رضیہ کے گاؤں گہری چلے گئے ادھر بات شروع ھوئی خالہ کا بیٹا کئی دفعہ امی نماز پڑھدے ھوندے سن تے سامنے چھلاوا آ کے گزر جاندا سی کسی خرگوش ورگا تے کسی اور شکل دا، اب وھاں رات قیام تھا ساری رات جاگتے گزاری پر نظر کچھ نہیں ایا خالد بھائی کی پھوپھو سے صبح ناشتے پر پوچھا پھوپھی اتھے کوئی جن بھوت رھندے نے ھنس کے کہنے لگیں پتر تیری خالہ دے وہم نے، این سی اے آئے تو ایک بہت ھی قریبی دوست کو کبھی ایف آئی اے پیچھے لگی محسوس ھوتی اور کبھی ھوٹل کا ویٹر جاسوس، کچھ دن بعد پتہ چلا وہم کی بیماری ھے شائد اسکو خلوصینیشن کہتے ھیں ایک سال کے علاج کے بعد کچھ بہتر ھوئے اور اگلا ایک سال بھائی اپنے آپ کو ڈپٹی کمشنر لاھور سمجھتے رھے ھماری چچی بازار، کی چیزوں کی بہت شوقین تھی ایک دن ناجانے کیا ماجرا ھوگیا اب پچھلے پنتالیس سال سے وہ اپنے ھاتھ پکے کے علاوہ کچھ نہیں کھاتیں کسی کے گھر جائیں یا شادی پر کھانا، ساتھ لیکر جاتی ھیں کہتے ھیں انکو وھم ھوگیا ھے کہ باقی سب کے ھاتھ گندے ھیں صرف وہ ھی صاف ھیں، دوسری طرف یقین کی بات آتی ھے تو سننے میں آیا کہ دریائے راوی کی پل پر ایک فرنچ لڑکی جاری تھی نیچے کشتی میں بیٹھے ایک لڑکے نے ھاتھ کے اشارے سے اسکو رکھنے کو، کہا اور وہ رک گئی لڑکا اس کے پاس آیا اور اس سے محبت کا اظہار کیا لڑکی میں کیسے یقین کر لوں لڑکا آپ حکم کرو لڑکی نے مذاق سے کہا، دریا میں کود جاو لڑکے نے چھلانگ لگا، دی اور ایک لمحے میں لڑکی کو یقین آگیا اور لڑکی نے بھی اس کے پیچھے چھلانگ لگا، دی دونوں کو، تیرنا نہیں آتا، تھا دونوں کی لاشیں نکال لی گئیں سب باتیں کر رھے تھے کہہ اتنی جلدی بھی کسی کو محبت ھو سکتی ھے، اور دونوں کو ایک دوسرے پر یقین کیسے آگیا،میرا خیال ھے یقین کے لیے ایک لمحہ ھی کافی ھے اور وھم کے لیے ساری زندگی تھوڑی ھے، ضروری نہیں یقین کرنے کے لیے کسی کی جان ھی لی جائے،
بہت سے دوست کہاں ھو، بازار، اچھا آوازیں تو نہیں آرھیں، جی ابھی آوازیں سناتا ھوں، ھارن کی آواز آئی کس سے کہہ کر بھجوایا ھے، یار کہاں ھو دفتر اچھا اکیلے ھو نہیں تو چار پانچ لوگ بیٹھے ھیں اچھا، خاموش کیوں ھیں شائد فون کی بیل پر چپ ھوگئے ھیں میں نے سنا، تھا شکی اور وھمی بیوی ایسے کرتی ھے پر شکر الحمدللہ بیوی تو اس بیماری سے دور ھیں لیکن کچھ دوست اور افسر اس بیماری کا شدید شکار ھیں، آفس کے نمبر پر بات کرتے ھوئے آپ کہاں ھیں جی سر دفتر آپ کا فون دفتر کے نمبر پر، ھی آیا ھوا ھے یار، تم بہت چیز ھو نمبر فاروڈ پر تو، نہیں لگایا ھوا، اب بندہ سر دیوار سے مارنے کی بجائے کیا کرے، پھر فوراً آفس بوائے کے فون پر فون تیرا، صاحب کدھر ھے سر، سامنے بیٹھے ھیں اچھا تو سب ملے ھوئے ھیں، آپکی شکائت ھے آپ دفتر، نہیں آتے اچھا، سر پھر سارے کام کیسے وقت پر ھوتے ھیں، مجھے سب پتہ ھے، یہ ھر میٹنگ والے دن ھی کوئی نہ کوئی کیوں فوت ھوتا، ھے، سر رب کے کام ھیں رب جانے مجھے نہیں پتہ، افسروں کے بعد اللہ نے کچھ دوست عنائت کردیے یار یہ نیلم ویلی میں تمھارا فون کیوں بند، تھا جی وھاں فون سروس نہیں ھے فون سروس، نہیں ھے یا ھمارا نمبر بلاک کیا ھوا ھے، جی میں سمجھا نہیں وہ کونسی جگہ ھے جہاں پاکستان میں موبائل سروس نہیں ھے سب جان چھڑانے کے بہانے ھیں کراچی میں اپ فون کیوں نہیں سنتے بازار، میں تھا فون چھین لیتے ھیں، یار اچھے طریقے ھیں دوستوں سے جان چھڑانے کے،
بائیک چلانا شروع کیا تو سر بڑا ھے بلو ٹوتھ لگا کر ھیلمنٹ نہیں پہنا جاتا اور ھیڈ فون لگا لو تو ھارن کی اواز نہیں آتی بہت بہانے ھیں دوستوں سے جان چھڑانے کے، میٹنگ میں کال آجائے تو میں کال کرنے والے کو میسج کر دیتا ھوں میٹنگ میں ھوں بعد میں کال کرتا ھوں جواب اتا ھے اچھا بہانہ ھے یہ کونسا وقت ھے میٹنگ کا، سرکاری ملازم ھوں ھمارے سارے رابطے ای میل، واٹس ایپ یا پھر موبائل فون پر ھوتے ھیں چوبیس گھنٹے انٹرنیٹ موبائل پر آن ھوتا ھے دوستوں کا اعتراض ھے آن لائن تھے پر جواب نہیں دے رھے تھے بہت بڑے انسان بن گئے ھو، جی بھائی دفتر کی مجبوری ھے جواب نہ دو تو خط آجاتا ھے سکرین کی نوکری ھے، اس وقت سویا ھوا تھا جواب کیسے دیتا یار ویسے ھی جواب دے دو ھماری دوستی کو بہانے تو نہ بناو، رات تین بجے میسنجر، پر، کال جی خیریت اس وقت کال سر، دیکھا آن لائن ھیں یہ بتائیں پندرہ ھزار، میں کوئی اچھا، سا ڈی ایس ایل آر مل جائے بے شک تھوڑا، سا استعمال شدہ ھو، یا، آپکے پاس کوئی فالتو، ھو، بھائی یہ مذاق کرنے کا، کوئی وقت ھے، اچھا اب یہ نہ کہیے گا آپ سو رھے تھے، اکثر رات کو فوٹو ایڈٹینگ کر رھا، ھوتا ھوں فیس بک اور واٹس ایپ آن ھوتا، پر میں ان ہر ھوتا نہیں بیس بیس، میسج جواب نہیں دے رھے ناراض ھیں یا نخرہ دکھا رھے ھیں ویسے تو بڑا اللہ اللہ کرتے ھیں میسج کا جواب نہیں دے رھے، میری سب دوستوں سے التجا ھے زندگی بہت مشکل ھے اسکو آسان بنانے کی کوشش کر رھا ھوں اپنی ھمت سے زیادہ کام کرتا ھوں وقت نہیں ھوتا ان فضولیات کے لیے، میں ایک مزدور ھوں اسکے سوا کچھ نہیں ،ضروری نہیں آپکا وہم سچ ھو، کچھ میرا بھی یقین کر لیں، میں بہت سے دوستوں سے اس وجہ سے کنارہ کشی کر چکا ھوں باقی مجھے مجبور نہ کریں، ھر ایک کو جواب ضرور دیتا ھوں جب بھی وقت ملتا ھے، دوران کام میں بات نہیں کر سکتا کام سے توجہ ھٹ جاتی ھے، میرے کام کی وجہ سے اگر آپ مجھ سے محبت کرتے ھیں تعلق رکھتے ھیں اللہ کا واسطہ ھے مجھے دھیان سے کام کرنے دیں، کیونکہ مجھے پتہ ھے ویسے میں اتنا پیارا نہیں کہہ آپ میرے دوست بنیں، میں رات کام کرنے کے لئے جاگتا ھوں یا لکھنے کے لیے میری اور کوئی الحمدلله مجبوری نہیں، یہ مضمون تمام افسروں اور دوستوں کے لیے ھے کسی کو اچھا لگے یا برا سانوں کی، جیو اور جینے دو پلیز مجھے لوگوں کے لہجے بہت تنگ کرتے ھیں میں نام بھول جاتا ھوں لہجے نہیں، ایک ڈائری بنا لی ھے اب نام لکھنا شروع کر دئیے ھیں، جو پہلے کبھی نہیں لکھے اس لیے احتیاط لازم ھے، میں اپ سب کی عزت و احترام کرتا ھوں اور آپ کی سب باتوں پر یقین بھی کرتا ھوں آپ بھی کوشش کریں، شکریہ

کیٹاگری میں : Column

اپنا تبصرہ بھیجیں