باتوں باتوں میں… طارق بٹ… لیڈر سے کارکن

… کارکنان کسی بھی ادارے یا سیاسی جماعت کا وہ گراں قدر سرمایہ ہوتے ہیں جن کی اہمیت سے کوئی بھی ادارہ یا سیاسی جماعت انکار نہیں کر سکتی اس لئے کہ یہی کارکنان تجربہ کی بھٹی میں تپ کر جب کندن بنتے ہیں تو لیڈر کی صفات لئے نمایاں ہو جاتے ہیں ایسے کارکنان جب لیڈر بنتے ہیں تو کامیابی ان کا مقدر ٹھہرتی ہے کیونکہ وہ خود کارکن رہ چکے ہوتے ہیں اس لئے کارکنان کے مسائل سے اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں-

پاکستان تحریک انصاف بھی کسی دور میں کارکنان کی جماعت ہوا کرتی تھی کہ جماعت میں لیڈر صرف اور صرف عمران خان تھے آج اس جماعت میں بھی باقی سیاسی جماعتوں کی طرح لیڈروں کی بہتات ہو چکی ہے اور کارکنان ناپید ہوتے جا رہے ہیں یقین نہ آئے تو جماعت کی کسی بھی تقریب میں دیکھ لیں کہ آپ کو اسٹیج پر اتنا رش دکھائی دے گا کہ بےچارہ اسٹیج ہچکولے کھاتا محسوس ہو گا جب کہ حاضرین کی تعداد واجبی ہو گی اسٹیج پر موجود کسی بھی رہنما کو کھل کر بولنے کا موقع نہیں مل سکے گا کیونکہ مقررین کی ایک طویل فہرست وقت کی تنگی کا باعث بن جاتی ہے اور جس کو بھی بولنے کا موقع نہ دیا جائے اس کی ناراضی کا خوف بھی انتظامیہ کو گھیرے رکھتا ہے مزید اسٹیج پر سیلفی گروپ کی دھکم پیل بھی مقرر کے خیالات اور گفتار میں حائل ہوتی رہتی ہے یہ ساری صورتحال اس لئے ظہور پذیر ہوتی ہے کہ کارکنان کی تربیت کا فقدان ہے اور ادھر ادھر کی جماعتوں سے تحریک انصاف میں شامل ہونے والے گھس بیٹھیے بھی اس کی بڑی وجہ ہیں کہ وہ اپنے ساتھ اپنی سابقہ جماعت کے کارکنان کی ایک کھیپ لے کر اسٹیج پر براجمان ہو جاتے ہیں جسے تحریک انصاف کا نظریاتی اور بنیادی کارکن پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتا –

بنیادی کارکنان کی بات چلی تو محترم قارئین کو اچھی طرح یاد ہوگا کہ سابقہ قومی حلقہ این اے 52 اور صوبائی حلقہ پی پی 7 پاکستان تحریک انصاف کی سرگرمیوں کا محور و مرکز ہوا کرتا تھا کرنل اجمل صابر راجہ ، چودھری امیر افضل ، راجہ عبدالوحید قاسم اور راجہ ساجد جاوید جیسے متحرک رہنما کارکنان کو ہر وقت متحرک رکھتے تھے ہر روز کسی نہ کسی یونین کونسل یا گاوں میں کوئی نہ کوئی چھوٹی بڑی بیٹھک ضرور ہوتی جس میں حلقے اور علاقے کے مسائل معلوم کیئے جاتے اور پھر ان کے حل کے لئے بساط بھر کوشش کی جاتی ان بیٹھکوں میں عام کارکنان کو بھی کھل کر اپنی بات کرنے کا موقع ملتا یوں بار بار کی ملاقاتوں سے مذکورہ رہنما ایک ایک کارکن کو اس کے نام سے جانتے تھے جسے کارکنان اپنے لئے اعزاز سمجھتے تھے –

کرنل اجمل صابر راجہ، چودھری امیر افضل، راجہ عبدالوحید قاسم اور راجہ ساجد جاوید نہ صرف اپنے حلقے اور علاقے میں مقبول تھے بلکہ پنجاب بھر میں کہیں بھی ضمنی انتخاب ہوتا تو مذکورہ رہنما کچھ کارکنان کو ساتھ لیتے اور انتخاب والے حلقے میں جا پہنچتے کہ اس طرح اس حلقے کے کارکنان کو ایک پیغام جاتا کہ راولپنڈی سے دوست ان کے انتخاب میں مدد کے لئے آئے ہیں- یہ سلسلہ تا دیر چلتا رہا شائید جاری رہتا مگر 2018 کے انتخابات کا بگل بج گیا جماعت کی قیادت نے اقتدار کے حصول کے لئے ادھر ادھر سے لکے کبوتر اکٹھے کر لئے اور اپنے نظریاتی کارکنان کو مایوسی کے گھڑے میں دھکیل دیا آفرین ہے ان کارکنان پر کہ قیادت کی جانب سے نظر انداز کرنے کے باوجود انہوں نے نہ تو بغاوت کی اور نہ ہی جماعت سے قطع تعلق کیا بلکہ جنہیں ٹکٹ ملا ان کی کامیابی کے لئے دن رات محنت میں جت گئے اور اپنی جماعت کو کامیابی دلوا دی –

مری کے پہاڑوں سے نیچی پرواز کرتے صداقت عباسی کو کلر سیداں کے میدانی علاقے کے کارکنان نے بلند پرواز بنا دیا اتنا بلند کہ اب وہ نیچے دیکھیں تو انہیں چکر آ جاتے ہیں دوسری جانب غلام سرور خان منصب وزارت پر متمکن ہو چکے ہیں یوں دونوں اپنی اپنی ڈفلی بجا رہے ہیں صداقت عباسی اپنی کمیٹی کمیٹی کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں تو غلام سرور خان کا تکیہ چودھری محمد افضل آف پڑیال پر ہے کہ وہ انہیں لیڈر بنانے پر تلے بیٹھے ہیں رہے کرنل اجمل صابر راجہ ،چودھری امیر افضل ،راجہ عبدالوحید قاسم اور راجہ ساجد جاوید تو انہیں اب اسٹیڈیم میں تماشائیوں کی حیثیت سے بیٹھنا پڑ رہا ہے حالانکہ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ یہ اسٹیڈیم بصد مشکل انہی شخصیات نے تیار کیا تھا گھنی اور خار دار جھاڑیوں کو صاف کر کے گہری کھائیوں کو محبت ، خلوص اور محنت کی مٹی سے بھر کے خوبصورت اسٹیڈیم تیار کرنے والوں کو ان کی اپنی ہی جماعت نے کھیلنے کا موقع نہ دیا اور تماشائی کی حیثیت دے دی-

مذکورہ بالا چاروں شخصیات کے متحرک نہ ہونے سے جماعت کو جو نقصان پہنچ رہا ہے اسکا صیحح معنوں میں اندازہ تو تب ہو گا جب اس حلقے میں انتخابی جوڑ پڑے گا مگر اس وقت بھی اسے یوں محسوس کیا جا سکتا ہے کہ صداقت عباسی کا اپنی کامیابی کے بعد زیادہ وقت میڈیا پر گزارنا کہ اس طرح وہ قیادت کی نظروں میں زندہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر حلقے سے دوری انہیں اپنے ووٹروں سے بھی دور کر رہی ہے – واقفان حال جانتے ہیں کہ انہیں اس کی کوئی خاص پرواہ اس لئے بھی نہیں کہ آئیندہ جب بھی جنرل الیکشن ہوئے نئی حلقہ بندیاں ہوں گی اور کلر سیداں والا علاقہ صداقت عباسی کے حلقے سے ہر صورت کٹ جانا ہے اس لئے وہ اپنا قیمتی وقت اس طرف ضائع کرنے کو تیار نہیں باقی رہا معاملہ غلام سرور خان کا تو ایک تو وہ اپنے جعلی ڈگری کیس سے پریشان ہیں دوسرا وزارت کی ذمہ داریاں اور تیسرا وہ اپنا آبائی حلقہ اپنے لئے زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں چنانچہ ان کی کوشش ہے کہ اپنے آبائی حلقے پر زیادہ توجہ دیں اور موجودہ این اے 59 کو چودھری محمد افضل آف پڑیال کے رحم وکرم پر چھوڑ دیں –

حالات اگر اسی ڈگر پر چلتے رہے تو کرنل اجمل صابر راجہ ،چودھری امیر افضل، راجہ عبدالوحید قاسم اور راجہ ساجد جاوید کب تک صداقت عباسی اور غلام سرور خان کے کارکن کی حیثیت سے کام کرتے رہیں گے کہ ان چاروں نے بڑی تگ و دو کے بعد اپنے آپ کو کارکنان کی فہرست سے نکال کر لیڈران کی فہرست میں شامل کروایا تھا مگر وقت کی ستم ظریفی نے انہیں دوبارہ کارکنان کی صف میں لا کھڑا کیا میں نہیں جانتا کہ ہماری سیاسی تاریخ میں کوئی اور ایسی مثال موجود ہے یا نہیں مگر اپنے ان چاروں دوستوں کو 2018 کے الیکشن سے پہلے میں نے ایک لیڈر کے طور پر دیکھا ہے انتہائی شریف النفس اور ملنسار لیڈر جو اپنے کارکنان میں گھل مل جاتے ہیں شائید اسی لئے یہ چاروں لیڈر سے کارکن بن چکے ہیں…!

اپنا تبصرہ بھیجیں