باتوں باتوں میں ۔۔۔ طارق بٹ ۔۔۔ ب بستہ ، پ پٹواری ۔۔۔

تنقید شاہ جی کا نزول اچانک ہوا میں کتابوں کا ڈھیر سامنے رکھے ایک ریفرنس تلاش کر رہا تھا نہیں معلوم کب بیل ہوئی اور کبھی میری بچی نے دروازہ کھول کے تنقید شاہ جی کو ڈرائینگ روم کا راستہ دکھا دیا پتا مجھے اس وقت چلا جب انہوں نے پہلا جملہ کسا ۔ کیا ڈھونڈ رہے ہو کباڑ کے ڈھیر میں قدیم کباڑیئے ؟ میں نے سر اٹھا کر شاہ جی کی طرف دیکھا جو اس وقت تک تشریف فرما ہو چکے تھے ۔ شاہ جی آپ زیادتی فرما رہے ہیں علم کے خزانے کو کباڑ کا ڈھیر کہہ کر ۔ انہوں نے ایک قہقہہ لگایا اور بولے۔ تم نے سنا نہیں نالائقوں کے بستے بھاری ہوتے ہیں لائق فائق لوگ حاصل کردہ علم اپنے ذہنوں میں محفوظ رکھتے ہیں تمہاری طرح کمر پر بستے نہیں لادے پھرتے۔ ویسے بھی میں نے ایک علامہ صاحب سے سنا ہے کہ اسکول جاتے ہوئے بچہ اپنا بستہ پیچھے کمر پہ لگا کہ جاتا ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مرنے کے بعد یہ اسکول کا علم پیچھے رہ جاتا ہے لیکن مسجد جاتے وقت بچہ اپنا قاعدہ یا قرآن سینے سے لگا کر جاتا ہے یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ علم مرنے کے بعد بھی آگے ساتھ جاتا ہے اس لئے آگے کی سوچو ۔ شاہ جی خیر تو ہے میں نے پوچھا؟۔ خیر ہی تو نہیں ہے شاہ جی نے جواب دیا میں تو یہ سوچ سوچ کے پریشان ہو رہا ہوں کہ یہ دنیاوی بستے رکھنے والوں کا آگے کیا حال ہو گا خاص طور پر پٹواریوں کا جنہوں نے اپنے بستوں کے ذریعے جہنم کے وافر ایندھن کا بندوبست خود کر رکھا ہے ۔موضوع دلچسپ تھا میں نے اپنے سامنے کھلی کتابیں سمیٹیں اور ہمہ تن گوش ہو گیا۔

چائے آ چکی تھی تنقید شاہ جی نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے میری معلومات میں اضافہ شروع کر دیا ۔ تو سنو اے ڈرائینگ روم میں قید قلم کار پیارے وطن کی ہر تحصیل اور ضلع میں خصوصی نظارت کا دفتر ہوتا ہے جس کا انچارج ناظر کہلاتا ہے ۔ تحصیل یا ضلع میں کوئی بھی سرگرمی ہو ۔ وزیر اعلی یا کسی بڑے وزیر کا تحصیل یا ضلع کا دورہ ہو یا حکمران جماعت کے کسی بڑے نے کوئی جلسہ کرنا ہو تو ان تمام سرگرمیوں کے انتظامات ناظر کی فرائض منصبی سمجھے جاتے ہیں ۔ ہوتا یوں ہے کہ اوپر سے کمشنر کو اطلاع کی جاتی ہے کمشنر ڈپٹی کمشنر کی ذمہ داری لگاتا ہے ڈپٹی کمشنر اس ذمہ داری کو آگے اسسٹنٹ کمشنر تک منتقل کر دیتا ہے اسسٹنٹ کمشنر نظارت برانچ اور ناظر کو احکامات صادر فرما دیتا ہے ناظر سے یہ ذمہ داری تحصیلدار، گرداور سے ہوتی ہوئی بالآخر پٹواری کے مضبوط کندھوں تک پہنچ جاتی ہے۔ وہی پٹواری جس کے پاس بستے کی صورت میں عالمی بنک سے بھی کہیں زیادہ مالی وسائل ہوتے ہیں ۔ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پٹواری نے خود کو تفویض کی ہوئی ذمہ داری بطریق احسن ادا نہ کی ہو۔

میں نے شاہ جی سے مزید معلومات اگلوانے کے لئے انہیں ہلا شیری دیتے ہوئے کہا شاہ جی آپ کی تو بڑی ریسرچ ہے ان تمام معاملات میں فورا بولے اسی لئے تو تمہیں ڈرائینگ روم کا قلم کار کہتا ہوں جو اخبار پڑھ کر یا ٹی وی ٹاک شوز دیکھ کر چار لائنیں لکھ کر اخبار کو بھیج دیتا ہے اور خود کو بڑا قلم کار سمجھتا ہے صحافت ایسے نہیں کی جاتی اس کے لئے بڑے دھکے کھانے پڑتے ہیں جوتے گھسانے پڑتے ہیں خبر خود چل کر نہیں آتی اس کا کھوج لگانا پڑتا ہے ابھی اور سنو اپنے حلقے کے ایم این اے، ایم پی اے ، ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، تحصیلدار، گرداور سب کا خیال رکھنا بھی پٹواری کی ذمہ داری ہوتی ہے ضلع یا تحصیل میں کوئی بھی تقریب ہو جلسہ جلوس ہو حاضرین کی آمد کے لئے ٹرانسپورٹ کا انتظام، تقریب کے لئے شامیانوں قناتوں کا بندوبست، ساؤنڈ سسٹم حتی کہ حاضرین کی خاطر تواضع کے لئے دیگوں کا انتظام یہ سب بھی پٹواری کو کرنا پڑتا ہے اور تو اور اپنے سے اوپر والوں کو ماہانہ اخراجات کی مد میں ایک معقول رقم بھیجنا بھی پٹواری کے فرائض منصبی میں شامل ہوتا ہے یوں سمجھ لو کہ ہر تحصیل اور ضلع میں سب سے مصروف اور اہم انتظامی اہلکار پٹواری ہوتا ہے اسی لئے کوئی پٹواری آپ کو اپنے پٹوار خانے میں کبھی بھی میسر نہیں ہو گا عام عوام کا جب بھی پٹوار خانے جانا ہو وہاں ان کا واسطہ پٹواریوں کے رکھے ہوئے چار پانچ ذاتی منشیوں سے پڑتا ہے جو بغیر تنخواہ کے ملازم ہوتے ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی لکھ پتی ، کروڑ پتی سے کم نہیں ہوتا ۔ یہ سارا دن مال اکٹھا کرتے ہیں اور حصہ بقدر جسہ اپنے پاس رکھنے کے بعد باقی مال انتہائی ایمانداری کے ساتھ پٹواری صاحب کے حضور پیش کر دیتے ہیں ۔

تنقید شاہ جی کی طلسم ہوش ربا سن کر میری آنکھیں حیرت سے پھٹی جا رہی تھیں میں نے ڈرتے ڈرتے کہا شاہ جی یقین نہیں آ رہا ۔ شاہ جی غصے سے بولے تمہارا مطلب ہے میں مبالغہ آرائی سے کام لے رہا ہوں ۔ یقین کرو ناکام قلم کار اپنے گردونواح جتنے بڑے پلازے، جتنے بڑے کیش اینڈ کیری، جتنے بڑے سپر اسٹور اور جتنی عالی شان کوٹھیاں تم دیکھتے ہو کبھی چھان بین کر کے آزما لو ان کے پیچھے کوئی نہ کوئی پٹواری ہو گا۔ یقین جانو ملک ریاض جیسے ان کے سامنے کچھ نہیں بیچتے ایک ایک پٹواری میں سے چار چار ملک ریاض نکل سکتے ہیں ہمارے وزیر اعظم اور چیف جسٹس تو بہت بھولے بادشاہ ہیں ڈیم بنانے کے لئے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر نظریں لگائے بیٹھے ہیں اگر وہ اپنے ملک کے ان محب وطن پٹواریوں کی خدمات حاصل کریں تو ایک نہیں دس بھاشا ڈیم بنائے جا سکتے ہیں بس کرنا صرف یہ ہو گا کہ تعلیمی نصاب میں ب بستہ اور پ پٹواری شامل کر دیں سارا ملک پٹواریوں کی طرح خوشحال ہو جائے گااور آنے والی نسلوں کو بھی بستے اور پٹواری کی اہمیت کا احساس رہے گا۔۔۔!

کیٹاگری میں : Column

اپنا تبصرہ بھیجیں