امن کی کہانی تحریر محمد اظہر حفیظ

امن کی کہانی

تحریر محمد اظہر حفیظ

1997 چینل سیون میں نوکری کرتا تھا ایک دن امی کہنے لگی اظہر گھر وچ کچھ پیسے ھونے چاھی دے نے جی امی جی خیریت دو دو خوشخبریاں نے ایک تیری باجی دے تے ایک بھابھی دے خرچہ پاس ھونا چاھیے جی امی جی حکم، بیٹا کوئی پچاس ھزار تو ھوں جی امی جی، بار ھزار تنخواہ تھی چینل سیون میں مالک مسعود صاحب سے کہا جناب پچاس ھزار ادھار دے دیں یا کل کی چھٹی دے دیں اچھا ایک دن میں پچاس ھزار کما لو گے جی انشاء الله کرنٹ اکاؤنٹ ھے رب کے ساتھ، ٹھیک ھے کل کی چھٹی ھے تمھاری، شکریہ جناب ،
چینل سیون کی سیڑھیاں اتر کر نیچے ایا میری کار کے پاس ایک کالی مرسڈیز کھڑی تھی نزیر وڑائچ مرحوم کی، بابا جی اسلام و علیکم، اوئے حرام خور کتھے غائب ایں تینوں میں لب رھیا واں ،بابا جی حکم یار اے محکمہ آباد، دے دس پوسٹر بنانے نے 30*40انچ دے پرنٹر انناں کول لگیا ھویا، اے، کل بنانے نے، جی بابا جی انک کاٹریج تیری ھوگی پرنٹر انکا جی بابا جی پیسے دس، ایک منٹ بابا جی وسیم سٹیشنرز افضل کو، کال کی یار یہ پرنٹرکا ماڈل ھے کاٹریج کی قیمت بھائی چھ ھزار اور 30*40 کی پچیس شیٹ جی ایک ھزار اچھا شکریہ، جی بابا جی ستاون ھزار ھوگا، خرچہ، پچاس ابھی باقی کل صبح اٹھ بجے سات ھزار بمعہ ڈرئیور اوئے اے کی حساب اے میرے کولوں ظہیرالدین نیوز کاسٹر، ڈیڑھ لاکھ منگیا تو اننے تھوڑے کیوں،
بابا جی میری امی دا حکم پچاس ھزار دا اے تے سات ھزار پرنٹ دا خرچہ اچھا اے لے پچاس ھزار جا کے کم شروع، کر صبح اٹھ وجے ڈرائیور آجائے گا میں اسدا، کی کرنا اس، نوں وسیم سٹیشنرز بھیجنا سامان لے آئی پیسے دے آئے، گھر جا کر امی جی کو پچاس ھزار دئیے ماں جی آج راتیں گھر نہیں آوں گا محکمہ آباد میں پوسٹر، بنانے ھیں کل شام واپس آوں گا جی اچھا، پوسٹر بنائے اور پرنٹ لیے شام کو گھر آگیا بابا بھی خوش اور ماں جی بھی، اگلے دن واپس چینل سیون مسعود ھاں بھئی کیا بنا جی الحمدللہ ھوگیا سب بتا دیا یار تو مارکیٹنگ ٹیم میں آجا، جی میں ڈیزائن میں ھی ٹھیک ھوں کچھ دن بعد چینل سیون سے استعفیٰ دیا اور امین اقبال صاحب نے مجھے جاوید چوھدری صاحب کے ساتھ خبریں کے میگزین “اور” میں چیف ڈیزائنر لگوا دیا، امین اقبال بھائی اپکا شکریہ،
سات اپریل اللہ نے ایک بھانجا عطا کیا اور اس کا نام فہد فیاض رکھا ماشاءاللہ اب ٹیکسٹائل ڈیزائننگ کر رھا ھے نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد سے،
22 مئی 1998 ھم عزیز نرسنگ ہوم سید پور راولپنڈی میں تھے سہ پہر کے وقت لیڈی ڈاکٹر نجم انساء نے ایک بہت خوبصورت بچی میری امی جی کو پکڑائی لیکن مبارک باد، نہیں دی پریشانی میں گویا ھوئیں بچی پیدائش کے بعد روئی نہیں اسکو فوراً کسی سرکاری ہسپتال نرسری میں شفٹ کریں ھمارے پاس یہ سہولت نہیں ھیں میں خالہ رضیہ امن کی نانی ھم فوراً دوڑ پڑے پہلے ھولی فیملی ہسپتال گئے انھوں نے کہا ھمارے پاس کوئی سیٹ خالی نہیں ھم وھاں سے پمز چلے گئے انھوں نے کہا بچی فوت ھو جائے گی ھم ذمہ داری نہیں لے سکتے وھاں سے پولی کلینک پہنچے صاف جواب تھا بچی کا بچنا ممکن نہیں بہت بھاگے کچھ ھوش، نہیں تھا چار بجے شام سے اب رات کے ساڑھے آٹھ بج چکے تھے اور، میں دوبارہ ھولی فیملی ہسپتال پہنچ چکا تھا اب مجھے یاد آیا میں تو خبریں اخبار کا چیف فوٹوگرافر اور چیف ڈیزائنر ھوں لیکن میں تھک چکا تھا ایم ایس سے ملا اور مجھے غصہ آگیا مرتی ھے تو مر جائے ایڈمٹ تو کرو غصہ کام آگیا اور انھوں نے امن کو ایڈمٹ کر لیا، جی بچی کو ھر، پندرہ منٹ بعد ماں کی فیڈ دیں نیا مسئلہ تھا ماں عزیز نرسنگ میں امن اہریشن سے پیدا ھوئی تھیں، امی اور طارق بھائی بھابھی کے ساتھ میں اور خالہ نے امن کے ساتھ یہ کیسے ممکن ھو میں نے کوشش کی اور ھولی فیملی ہسپتال کا ایک اکلوتا کمرہ ھمیں مل گیا شکریہ ایم ایس ڈاکٹر شعیب صاحب کا، اور زندگی کچھ آسان ھوئی، میں اکثر، سوچتا تھا لوگ ھسپتال کے برآمدوں میں کیسے سو جاتے ھیں بس سمجھ آگیا، خالہ ھر پندرہ منٹ بعد امن کو لے کر، آتیں اور میں اس کو اٹھا کر بھاگوں اور ماں تک پہنچاؤں بہت سخت ورزش تھی میں بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ کے باھر زمین پر بیٹھا تھا پتہ نہیں کب سیدھا ھو کر سوگیا خالہ وے اظہر کی ھویا جی خالہ میں رونے لگ گیا اپنی بے بسی پر پاؤں سوجے ھوئے تھے جسم ٹوٹ رھا تھا تین دن کا جاگا ھواتھا پھر امن کو لے بھابی پاس چلا گیا مشکل آسان نہیں ھورھی تھی طارق بھائی میرے گلے لگ کر، رو دیئے یار کی بنوں میرے الفاظ تھے یار فکر نہ کر تو کدی کسے نال کوئی زیادتی نہیں کیتی رب کیوں کرو، اور الحمدللہ رب نے میری لاج رکھ لی، امن کا نام بھی نہیں رکھا تھا، ادھر انڈیا نے ایٹمی دھماکے کر دیئے جواب میں ھم نے بھی دھماکے کر دئیے اور میں نے 28 مئی کو اس بچی کا نام امن رکھ دیا، اب میگزین کی اشاعت کے دن تھے طارق بھائی کا بار بار فون آئے یار ھسپتال آ بھائی بہت مصروف ھوں میگزین چھپنا ھے یار آ ایک مجسٹریٹ بار بار کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا رھا ھے اور تمھارا پوچھتا ھے اگر اسنے کمرہ خالی کروالیا تو کیا بنے گا مجھے معاملہ سمجھ آگیا میں دفتر سے دوڑتا ھوا ھسپتال آیا سات راتوں کا جاگا ھوا تھا سیدھا روم میں آیا ساتھ ھی دروازہ کھٹکا بھائی یار او فر اگیا جے، تو فکر نہ کر، میں باھر نکلا سات دن کا جاگا ھواخبریں کا لہجہ باھر اگیا اور میں اس کے گلے پڑھ گیا اوئے تیرا کی مسئلہ اے ساڈی جان نوں اگیا ایں کیوں تنگ کردا ایں تیرا کوئی بندوبست کراں، سر بات تو سن لیں جی کی سن لیں مینوں تیری وجہ تو آنا پیا، تیرا مسئلہ کی اے او جی جب کمرہ خالی کریں تو مجھے دے دینا، جی اچھا پھر اندر آکر طارق بھائی کی بہت کی یار او مسکین جیا مجسٹریٹ توں ایویں ڈردا سی الحمدللہ امن ٹھیک ھوگئی اور ھم گھر آگئے، امن نے تھوڑا ھوش سنبھالا تو بہت لڑاکا بچی تھی امی جی کہتی تھیں امن تیرے چاچے نوں تیرا ناں امن دی بجائے امریکہ رکھنا چاھیدا سی تو تے لڑائیاں لبھدی پھردی ایں، امن امریکہ سے اب دوبارہ امن بن چکی ھے، ابا جی کی بیماری میں امن اور میری بیوی نے بہت خدمت کی، امن تو اکثر ابا جی کو سیگریٹ بھی لگوا دیتی تھی ،ابا جی کی ٹانگیں دبانا، بہت خیال رکھا، ابا جی کے جانے کے بعد امن کو مسکراتے کم ھی دیکھا، اب امی کو کیسے بتائیں انکا امریکہ پر امن امن بن چکی ھے، کبھی کبھی میں اسے گلے لگا کر رو پڑھتا ھوں جب بھی مجھے وہ وقت یاد آتا ھے جب میں ھولی فیملی ھسپتال کے وارڈ کے باھر بیٹھا اسکا انتظار کرتا، تھا اور سو جاتا تھا،لو یو امن میری بیٹی، اللہ سب بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے امین اور صحت کے ساتھ ایمان والی زندگی دیں امین سب والدین سے درخواست ھے بچوں کی پیدائش کے سلسلے میں ایسے ھسپتال کا انتخاب کریں جس، میں بچوں کی نرسری اور انتہائی نگہداشت وارڈ کا اپنا انتظام ھو، میری امن کی آج سالگرہ ھے بہت مبارک ھو، میری بیٹی

کیٹاگری میں : Column

اپنا تبصرہ بھیجیں