باتوں باتوں میں… طارق بٹ… مار نہیں پیار

… نئی نویلی کھلتی کونپلیں یخ بستہ سردی ہو یا قہر کی گرمی ماں کی آرام دہ گود سے اٹھ کر صبح سویرے مادر علمی کا رخ کرتی ہیں اور وہاں پہنچتے ہی اسمبلی میں انہیں ایک ظالم اور جابر وحشی قسم کے ماسٹر سے واسطہ پڑتا ہے جس نے اپنے ہاتھ میں مولا بخش بھی اٹھا رکھا ہوتا ہے فضول قسم کا یہ شخص جس کی معاشرے میں قطعا کوئی عزت نہیں ماسٹر کہلاتا ہے یہ ماسٹر ٹائپ کا احساسات سے عاری انسان ایک ایک بچے کے ناخن ،بال ،ناک ،کان ،یونیفارم ، جوتے حتی کہ موزے تک باریک بینی کے ساتھ چیک کرے گا اس فضول قسم کے ماسٹر سے کوئی پوچھے کہ تم ہر بچے کے باپ ہو یا ماں ۔ جنہوں نے اپنے لخت جگر کو گھر سے تیار کر کے بھیجا ہے ان کا یہ کل سرمایہ ہے اور اپنے سرمائے کی حفاظت کرنا اور خیال رکھنا ہر کسی کو آتا ہے پھر تم کیا مامے لگتے ہو کہ آئے روز ڈنڈا پریڈ ، کبھی بال نہیں کٹے ہوئے کبھی ناک صاف نہیں کبھی کان میل سے بھرے ہوئے ہیں کبھی یونیفارم کے قمیض کے کالر میلے پائے گے اور کچھ نہ ملا تو جوتے اتروا کے جرابیں اپنی ناک سے لگا کے سونگھ کے چیک کر لیں کب سے نہیں دھویں ؟ چار دن ہو گئے سر ۔ اچھا چار ڈنڈے تو پڑیں گے کوئی پوچھے ارے بابا جنہوں نے پیدا کیا جن کے آنگن کا پھول ہے ان سے زیادہ تمہیں فکر ہے رہنے دو اپنی ماسٹری پھینک دو یہ مولا بخش آج کے بعد مار نہیں پیار۔
احکامات صادر ہو گئے تعمیل واجب ہو گئی کہ نوکری جو کرنی ہے اب کوئی ماسٹر ہاتھ تو کیا کسی پھول کلی کو انگلی ہی لگا کے دکھائے تھانے میں پرچہ ہو گا طالب علم نہیں ماسٹر کو کان پکڑائے جائیں گے وہ بھی تھانے میں ، جرات کیسے ہو ایک کمی کمین ماسٹر کی کہ کسی پھول جیسے بچے کو سزا دے احکامات جو صادر ہوئے تھے مار نہیں پیار۔ نتیجہ کیا نکلا بچے نے یونیفارم پہننا چھوڑ دیا رنگ رنگ کے کپڑوں سے اسکول مینا بازار کا منظر پیش کرنے لگا مگر ماسٹر کی جرات نہیں کہ کچھ کہہ سکے بچے نے اسکول حاضر ہونا کم کر دیا چھٹی پہ چھٹی ہونے لگی مگر ماسٹر جرمانہ نہیں لگا سکتا بچے نے سبق یاد کرنا چھوڑ دیا مگر ماسٹر بچے کو ہاتھ نہیں لگا سکتا بچے نے ہوم ورک نہ کرنے کو وتیرہ بنا لیا مگر ماسٹر بچے کو گھور کے بھی نہیں دیکھ سکتا ماسٹر کڑ سکتا ہے اپنے بال نوچ سکتا ہے اپنے آپ کو کوس سکتا ہے اپنی تمام تر محنت کو رائیگاں جاتے دیکھ سکتا ہے مگر اس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ مار نہیں پیار ۔
سال بیتتے وقت ہی کتنا لگتا ہے امتحانات کا وقت آ پہنچا بچہ سال بھر اسکول آیا یا نہیں ماسٹر کی اوقات ہی نہیں کہ اس کا نام خارج کر سکے امتحان میں بچے نے بیٹھنا ہی بیٹھنا ہے پانچویں اور آٹھویں کا امتحان پنجاب ایگزامینیش کمشن کے زیر انتظام ہوتا ہے اوکھے سوکھے امتحان ہو گیا ساتھ ہی اعلان بھی ہو گیا کسی بھی بچے کو فیل نہیں کیا جائے گا نتائج کا بھی اعلان ہو ہی گیا ایک مضمون میں فیل ایک اسٹار دو میں فیل دو اسٹار اور تین میں فیل تین اسٹار کے ساتھ پاس ہو کر سپر اسٹار بن گئے اب یہ سپر اسٹار پرائمری اور مڈل اسکولوں میں گل کھلاتے کار ہائے نمایاں سر انجام دینے کے لئے ہائی اسکولوں کے پلے پڑ گئے حکومتی پالیسی کے مطابق آپ نے ہر حال میں انہیں داخل کرنا ہے بلکہ ماسٹروں کو وفد کی صورت میں گلی گلی محلہ محلہ اور گاوں گاوں پھر کر ایسے گوہر نایاب تلاش کر کے اسکولوں میں لانے ہیں جو تعداد سال کے ابتدا میں ڈائریکٹوریٹ کو دے دی سال کے اختتام تک یہ تعداد برقرار رکھنا بھی ناہنجار ماسٹروں کی ذمہ داری ہے خود درویش کے ایک جاننے والے نکمے اور نکھٹو ماسٹر نے اپنے اسکول کے گردونواح میں پھیلے اینٹوں کے بھٹوں سے 70 کے قریب بچے منتیں کر کے اپنے اسکول میں داخل کر لئے ماسٹر بے چارہ بد قسمت ٹھہرا کہ امتحان سے پہلے یہ پردیسی بچے بھٹوں کا کام ختم ہونے کی وجہ سے اپنے آبائی علاقے مظفر گڑھ چلے گئے ماسٹر آج تک انکوائری بھگت رہے ہیں مگر عمل اب بھی مار نہیں پیار پہ ہی کر رہے ہیں۔
پانچویں اور آٹھویں میں دھونس دھاندلی اور زبردستی پاس کئے گئے اسٹارز ہائی اسکولوں میں بھی اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتے مگر اب کے مجبوری یہ آن پڑتی ہے کہ نویں اور دسویں کے امتحانات بورڈز لیتے ہیں اور وہاں مارکنگ کا سخت انتظام ہے جب کہ ماسٹروں کے سروں پر حکومتی پالیسی کی تلوار لٹک رہی ہوتی ہے کہ کلاس کے اتنے پرسنٹ فیل ہوئے تو اتنی انکرئیمنٹ بند اتنے پرسنٹ فیل ہوئے تو اتنے سال کی سروس ضبط اتنے پرسنٹ فیل ہوئے تو ضلع بدری کی صورت میں تبادلہ اب ماسٹر بے چارہ نوکری بچانے کے چکر میں بہتر رزلٹ دکھانے کے لئے ان اسٹارز کو نقل کروانے پر مجبور کہ مار نہیں پیار پر سختی سے عمل نے ٹیچر کو چیٹر بنا دیا ہے۔
مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق پہلے ہی سے دلدل میں دھنسے ہوئے ماسٹر کو جانور شماری کی ڈیوٹی بھی سرانجام دینا پڑتی ہے اور خانہ شماری کی بھی انتخابات بلدیاتی ہوں یا عام ماسٹروں کی ڈیوٹی لازم ہے اگر کبھی کہیں پولیو ورکر دستیاب نہیں تو وہاں بھی ماسٹروں کے گلے میں بیگ ڈال دیا جاتا ہے باہر کے کسی ملک سے کوئی سربراہ مملکت دورے پر تشریف لائیں تو ان کے استقبال کے لئے بھی سڑکوں پر بچوں کے ساتھ ماسٹر کھڑے کئے جاتے ہیں وزیر اعظم یا وزیر اعلی کا کوئی جلسہ ہو تو وہاں بھی پٹواریوں کے ساتھ ماسٹروں کی حاضری لگائی جاتی ہے پہلے ہی نونہال اور ہونہار پڑھتے نہیں اگر کبھی غلطی سے ان کا پڑھنے کو موڈ بن بھی جائے تو ماسٹر کسی اور ضروری ڈیوٹی پر ہوں گے جب ان تمام ضروری ڈیوٹیوں سے چھٹکارا پانے کے بعد ماسٹر بچوں پر توجہ دیں گے تو آگے کورے ذہن اور کورے کاغذ پائیں گے مگر پھر بھی عمل مار نہیں پیار پہ ہی کرنا ہو گا ۔
ذرا ماضی قریب کا چکر لگا کے دیکھیں استاد اور شاگرد کا رشتہ کتنا پیارا ہوتا تھا راہ چلتے کہیں استاد محترم پہ نظر پڑ گئی تو ان کے گزرنے کے لئے پوری گلی خالی چھوڑ کر شاگرد نے دیوار کے ساتھ لگ جانا اسمبلی کے فورا بعد اسکول کے سارے بچوں نے مل کر پانچ منٹ میں پورا اسکول صاف ستھرا کر دینا یہی عمل بریک ختم ہوتے ہی ایک بار پھر سر انجام دینا اساتذہ نے امتحانات سے پہلے بچوں کے ساتھ اسکولوں میں رات گزارنی اور رات رات بھر پڑھاتے رہنے بغیر کسی اضافی فیس یا لالچ کے، والدین نے خود آ کر استاد سے کہنا کہ ماسٹر جی اب یہ بچہ میرا نہیں آپ کا ہے اسے آپ نے بندہ بنانا ہے واہ رے بدنصیبی کہ ہر حکومت کو تجربات کے لئے ایک ہی محکمہ ملا ہے اور وہ ہے محکمہ تعلیم کئے جاو تجربات اور چلتے جاو الٹے قدم دنیا استاد کو عزت اور احترام دے کر عروج پا رہی ہے اور ہم استاد کو ہتھکڑیاں لگا کر زوال کی جانب لوٹ رہے ہیں ہمیں کیا آپ جاری رکھو مار نہیں پیار…!

اپنا تبصرہ بھیجیں