خیبر پحتونخوا میں ایک اور اداکارہ لقمہ اجل بن گئیں

خیبر پختونخوا کے شہر مردان سے تعلق رکھنے والی اداکارہ لبنیٰ عرف گلالئی کی لاش دو روز پہلے گنے کےکھیت سے ملی ہے۔ گلالئی پشتو ڈراموں فلموں اور سٹیج شوز میں کام کرتی تھیں اور ان دنوں شوہر سے روٹھ کر بہن کے گھر میں رہ رہی تھیں۔

گلالئی پہلی اداکارہ نہیں ہیں جو ’ذاتی رنجش یا تنازعے‘ کا شکار ہوئی ہیں، حالیہ چند برسوں میں خیبر پختونخوا میں ایک درجن کے قریب اداکارائیں ہلاک کر دی گئی ہیں۔

لبنیٰ عرف گلالئی کی تدفین مردان میں ان کے آبائی قبرستان میں کر دی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق گلالئی شوہر سے ناراض ہو کر پشاور کے علاقے دلہ ذاک روڈ پر اپنی بہن کے گھر آئی تھیں اور کچھ دنوں سے ادھر ہی رہ رہی تھیں۔

ان کی بہن زرقا کا کہنا تھا کہ گلالئی کے شوہر منانے کے لیے دو تین مرتبہ آئے تھے لیکن گلالئی راضی نہیں ہوئی۔ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ شوہر کے ساتھ تنازعے کی نوعیت کیا تھی۔
چند روز قبل گلالئی اپنی بہن کے گھر سے دو ساتھیوں کے ہمراہ مردان اپنی ماں کے گھر کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔ گلالئی کی بہن نے بتایا کہ گلالئی نے کہا تھا کہ وہ مردان ماں کے گھر جا رہی ہیں۔

مردان پولیس کے پاس درج رپورٹ میں گلالئی کی بہن نے بتایا کہ گذشتہ روز انھیں معلوم ہوا کہ گلالئی کی لاش گنے کے کھیت میں پڑی ہے۔

گلالئی کی بہن زرقا نے بی بی سی کو بتایا کہ جن ساتھیوں کے ہمراہ وہ گئی تھیں وہ اکثر تقریبات اور ڈراموں کی ریکارڈنگ کے لیے ان کے ساتھ جاتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ گلالئی کا ایک ساتھی نہیں چاہتا تھا کہ وہ اپنے شوہر کے گھر واپس جائیں۔

پولیس نے گلالئی کے ان دو ساتھیوں کو گرفتار کر لیا ہے جن پر ان کی بہن نے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

مردان پولیس تھانے کے انسپکٹر زاہد خان نے بتایا کہ دو نامزد ملزمان گرفتار کر لیے گئے ہیں جبکہ ایک کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ قتل ذاتی تنازعہ کی وجہ سے کیا گیا ہے تاہم مکمل حقائق تفتیش مکمل ہونے کے بعد معلوم ہو سکیں گے۔ گلالئی نجی تقریبات کے علاوہ پشتو کے سی ڈی ڈراموں جور سٹیج شوز میں کام کرتی تھیں۔

معروف اداکار اور ہدایات کار طارق جمال نے بتایا کہ دو ماہ پہلے گلالئی نے ان کے ساتھ ایک ڈرامے میں کام کیا تھا اور وہ بہترین اداکارہ تھیں لیکن ان کے ذاتی تنازعے ضرور تھے۔ انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں اکثر خواتین اداکاراؤں کے شادیوں کے بعد تنازعات زیادہ ہو جاتے ہیں۔
خیبر پحتونخوا میں گذشتہ چند برسوں کے دوران ایک درجن سے زیادہ خواتین اداکارائیں اور گلوکارائیں انھی تنازعات کی وجہ سے ہلاک کر دی گئی ہیں۔ ان میں غزالہ جاوید، سنبل ، صائمہ ناز ، گلنار نمایاں ہیں جبکہ معروف گلوکارہ نازیہ اقبال بھی کچھ عرصہ خاموش رہی ہیں۔

فن اور فنکاروں کے موضوعات کے معروف لکھاری شیر عالم خان کا کہنا ہے کہ اکثر خواتین اداکاراؤں اور گلوکاراؤں کی شادی کے بعد ان کے لیے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر خواتین اداکارائیں بات بھی مشکل سے کرتی ہیں، کبھی کبھار کسی کو سسرال کی طرف سے دباؤ ہوتا ہے تو کوئی اپنے کام کے مقام پر ساتھیوں کے دباؤ کی وجہ سے مشکل صورتحال میں ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں خواتین کے لیے اداکاری یا گلوکاری کے فن کو اچھا نہیں سمجھا جاتا اسی لیے گنی چنی خواتین ہی اس میدان میں آتی ہیں۔

مبصرین کے مطابق خواتین گلوکاروں اور اداکاراؤں کے تنازعات کی وجہ سے ان کے لیے اس شعبے میں کام کرنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں